ایک دن میں ایک بار کھانے کو ملتا تھا۔۔ جانیے یہ 3 مشہور شخصیات اتنی مشکلات کے بعد آج امیر کیسے بنی؟

ہم دنیا میں کامیاب لوگوں کو دیکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ ان کی زندگی کتنی آسان اور آسائشوں سے بھرپور ہے۔ آج ان کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے، جس کی ہر انسان تمنا کرتا ہے۔لیکن کیا آپ نے کبھی ان کے اس مقام پر پہنچنے سے پہلے کی زندگی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی ہے۔ اور انہیں اس مقام پر پہنچنے کیلئے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آج ہم آپ کو ان تین مشہور کامیڈین اور یوٹیوبر کی زندگی کے بارے میں بتائیں گے کہ کیسے وہ اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔


جنید اکرم

جنید اکرم کا نام پاکستان کے مشہور یوٹیوبر میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اور آج انہیں پاکستان کے بڑے بڑے برانڈز اپنے برانڈ کی تشہیر کیلئے رجوع کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے وہ آج اس مقام پر کیسے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔کراچی سے تعلق رکھنے والیجنید اکرم ایک مڈل کلاس فیملی میں پیدا ہوئے۔ گھر کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے انٹر کے امتحان دینے کے بعد انہوں نے چھوٹی سی عمر میں نوکری شروع کردی تھی۔ جنید اکرام کے مطابق ان کی پہلی نوکری ایک ہوٹل میں ویٹر کی تھی۔جنید اکرم نے بتایا کہ ان کے دوست پاکستان سے باہر پڑھنے چلے گئے تھے اور ان پاس وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔کامیڈین بننے کے حوالے سے جنید اکرم نے بتایا کہ مجھ میں ہنسی مذاق کرنے کی عادت شروع سے ہی تھی۔ اس وجہ سے مجھے کراچی میں 30 لوگوں کے سامنے چھوٹے چھوٹے شوز کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔ لیکن جب یوٹیوب آیا تو میں نے ایک ایسے ہی ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ کردی، لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ میری پہلی ویڈیو کو 70 ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا تھا۔ لیکن پھر میں نوکری کے سلسلے میں دبئی چلا گیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں پاکستان سمیت دبئی میں مختلف نوکریاں کی، جبکہ دبئی میں کھانا اور رہائش مہنگی ہونے کی واجہ سے وہ ایک دن میں ایک بار کھانا کھاتے تھے اور گاڑی میں سویا کرتے تھے۔ البتہ جنید نے بتایا کہ اس دوران میں اپنی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو خوش کر رہا تھا۔ لیکن 2016 میں ایک شو کیلئے جب میں کراچی آیا تو لوگوں کا پیار دیکھ کر حیران ہوگیا تھا۔ اس وقت میں نے فیصلہ لیا کہ مجھے اب دبئی میں نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس آجانا چاہیے، اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میرے لیے لوگوں کی محبت بڑھتی جارہی ہے۔

ذاکر خان

اسی طرح بھارت کے شہر اندور سے تعلق رکھنے والے ذاکر خان ایک مشہور کامیڈین ہیں۔ جن کے مداح بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ذاکر خان بتاتے ہیں کہ بچپن میں لوگ ان کے سانولے رنگ کی وجہ ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ذاکر نے بتایا کہ گھر کے مالی حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے مختلف شہروں میں نوکریاں بھی کی، جبکہ ذاکر خان کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا، جب تین سال تک وہ لوگوں کے پاس نوکری مانگنے جاتے تھے مگر کوئی انہیں نوکری پر نہیں رکھتا تھا۔ذاکر خان نے بتایا کہ دہلی میں وہ کرایہ کے گھر پر رہتے تھے جس کا کرایہ 3 ہزار روپے دینا ہوتا تھا اور گھر سے انہیں 6 ہزار روپے ملتے تھے۔ جس میں سے باقی 3 ہزار روپے سے انہیں کھانے کے اخراجات کے ساتھ پورا مہینہ چلانا پڑتا تھا۔ذاکر کے مطابق اس دوران مجھے کامیڈی شو کرنے کو موقع ملا، وہاں سے میں نے ایک کامیڈین ہونے کے سفر کا آغاز کیا۔ 2015 کے بعد ذاکر خان کی زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگئی جبکہ بھارت سمیت دنیا بھر میں ذاکر خان ایک سلیبرٹی بن گئے۔

رضا سمو

پاکستان کے صوبے سندھ کے شہر لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے کامیڈین رضا سمو کو پاکستان کے بڑے یوٹیوبر میں شامل کیا جاتا ہے۔ رضا سمو کے والد موٹر سائیکل کے مکینک تھے۔ رضا سمو کے والد چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر ایک بڑا آدمی بن جائے۔ جس پر ان کے والد نے رضا سمو کا اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ کروا دیا تھا۔لیکن رضا سمو بتاتے ہیں کے میرے شوق مختلف تھے۔ مجھے ایک آرٹسٹ بنانا تھا۔ پڑھائی کا شوق نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی میں ان کے نمبر کم آتے رہے اور یونیورسٹی کے آخری سال مجھے کم نمبر ہونے کی وجہ سے وہاں سے نکلا دیا گیا۔ اس وقت میری بہن نے فون کر کے بتایا کہ والدہ نے تمہاری پڑھائی کیلئے اپنا تمام گولڈ بیچ دیا ہے۔رضا سمو کے مطابق گھر جانے میں شرمندگی محسوس ہورہی تھی۔ اس لیے گھر جانے کے بجائے ایک کمرہ کرایہ پر لے لیا، لیکن کھانے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایک لیٹر کی جوس کی بوتل پر دو دن تک بڑی مشکل سے زندہ رہنے کی کوشش کی۔ان تمام پریشانیوں کو دیکھ کر میں نے یوٹیوب پر ویڈیو بنانا شروع کی اور آج تک ویڈیوز بنا رہا ہوں۔ رضا سمو نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن وہ پاکستان کے مشہور کامیڈین اور یوٹیوبر بن جائے گے۔